عام فہم لفظوں کی شاعری سے ہر خاص وعام کے دلوں میں گھر کرنے والے شاعر تھے بشیر بدر... محمد قمرالزماں قمر
ادارہ ادب اسلامی ہند بتیا اور جلیس نے مشترکہ طور پر دیا بشیر بدر کو خراج عقیدت
بتیا 5 جون (محمد قمرالزماں)
ادارہ ادب اسلامی ہند بتیا اور جنوادی لیکھک سنگھ نے مشترکہ طور پر ایک تقریب آراستہ کر بشیر بدر کو خراج عقیدت پیش کیا - سبکدوش ہیڈماسٹر جناب مجیب الحق نائب صدر جلیس اور رکن ادارہ ادب اسلامی ہند بتیا کے دولت خانہ پر بشیر بدر کے سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد ہوا جس کی صدارت جناب محمد علی امیر مقامی جماعت اسلامی ہند بتیا نے کی اور نظامت کا فریضہ ادارہ کے صدر جناب ڈاکٹر محمد قمرالزماں قمر نے ادا کیا انہوں نے کہا کہ بشیر بدر ایک مخلص اور نیک دل انسان تھے- جتنا وہ اردو والوں میں مقبول تھے اتنی ہی مقبولیت انکی ہندی والوں میں تھی - اس کا اندازہ ان سے متعلق سوشل میڈیا پر آنے والے پوسٹ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے- ڈمنیشیا جیسی بیماری کی وجہ کر تقریباً پندرہ برسوں سے ان کا رابطہ باہر کی دنیا سے مقطع ہو چکا تھا - جیونہی انکی رحلت کی خبر وائرل ہوئی ان کے چاہنے والے سوشل میڈیا پر ایکٹیو ہو گئے اور متواتر انہیں ان کے اشعار کے توسط سے یاد کر خراج عقیدت اور شردھانجلی دینے کا سلسلہ شروع کردیا - اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ باوجود ادبی رنجش اور چشمکوں کے بشیر بدر کی مقناطیسی شخصیت میں کمی نہیں آئی - آج بھی ملک اور بیرون ملک ان کے مداحوں نے بلا تفریق مذہب و لسان انہیں یاد کر خراج عقیدت پیش کر نے کا سلسلہ جاری رکھا ہے- ڈاکٹر ظفر امام نے کہا کہ کچھ وجوہات کی بناء پر ادبی حلقوں میں انہیں یکسر نظر انداز کیا جانا انہیں ڈمنیشیا جیسی بیماری کا شکار ہونے کی ایک وجہ ہوسکتی ہے - بشیر بدر نے میر و غالب کے بعد اردو شاعری کو ایک بلند مقام تک پہنچایا اس میں دو رائے نہیں ہے - سکریٹری ادارہ ادب اسلامی ہند بتیا فہیم حیدر ندوی نے کہا بشیر بدر نے اردو کی بے لوث خدمت کی- لفظوں کے انوکھے استعمال نے ان کی شاعری کو ندرت عطا کی - "کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا /وہ غزل کا لہجہ نیا نیا نہ کہا ہوا نہ سنا ہوا - ایسا شعر بشیر بدر ہی کہ سکتے تھے یہی انداز بیان انہیں دوسروں سے ممتاز اور مقبول بناتا ہے-شمیم احمد ڈائریکٹر پاراڈائیز انگلش اسکول نے ان کے مختلف اشعار سنائے اور بتایا کہ جب میرٹھ کے دنگے میں ان کا گھر جلا دیا گیا تو انہوں نے "لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں / تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں" جیسے شعر سے احتجاج جتایا - اپنے احساس کو سلیس اردو میں لوگوں تک پہنچانا ان کا شیوہ تھا- ریڈ کراس سوسائٹی بتیا کے سکریٹری پروفیسر ڈاکٹر جگموہن کمار نے کہا کہ بشیر بدر کی شاعری کی ایک خوبی یہ کہ وہ بوجھل اور اباؤ نہیں لگتی اور اسے بار بار پڑھنے کا دل کرتا ہے ان کا یہ شعر " اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو / نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے" واقعی ایک شاہکار اور شاندار شعر ہے- جنوادی لیکھک سنگھ کے سکریٹری انیل انل نے بشیر بدر کو شردھانجلی ارپت کرتے ہوئے تعریفیں کیں اور کہا کہ ایسے شاعر خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں -صدارت فرما رہے امیر مقامی جماعت اسلامی ہند بتیا جناب محمد علی نے بشیر بدر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بشیر بدر کی شاعری قومی یکجہتی کی مثال ہے انکی شاعری میں کرب ذات کےساتھ کرب زمانہ بھی ہے ان کی شاعری نازک احساس کی ترجمانی کرتی ہے وہ ایک حساس دل رکھنے والے محبت کے شاعر تھے - بشیر بدر کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں صاحب خانہ جناب مجیب الحق کے علاوہ ہیڈماسٹر پلس ٹو اسکول جناب محمد عارف ، ٹیچر اشفاق احمد،گیانیشور گنجن شامل رہے.. دوسرے دور میں مشاعرہ ہوا - پیش خدمت ہیں شعراء کے نام اور انکے کلام:-
محمد قمرالزماں قمر
سہ رہے ہو ستم بہت زیادہ
بزدلی ہے کہ یہ شرافت ہے
ڈاکٹر ظفر امام
بجھ نہیں پایا دیا طوفان میں تو سوچیئے
خون دل کی روشنی ہے یا دیا بیمار ہے
افتخار و صی عرف کریک بتیاوی
جس کو پڑھنے کے عوض قید مشقت جھیلیں
پھر اسی نظم کو دہرانے سے ڈر لگتا ہے
ایسے لاکپ میں بٹھایا ہے مجھے جیلر نے
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار سے سر لگتا ہےحسن امام قاسمی
جو دریا تھے سمندر بن چکے ہیں
جو پیاسا تھا پیاسا رہ گیا ہے
مجیب الرحمن مجیب
راہ وفا میں اشک گرا کر تو دیکھیئے
دل میں کسی کا پیار جگا کر تو دیکھیئے
انکے علاوہ ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر ،انیل انل ،ڈاکٹر جگموہن کمار ،جئے کشور جئے ،چندریکا رام ،اور گیانیشور گنجن نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا - اخیر میں صاحب خانہ جلیس کے نائب صدر اور ادارہ ادب اسلامی ہند بتیا کے رکن جناب مجیب الحق نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ، عشائیہ کے بعد تقریب کے اختتام کا اعلان ہوا..